فهرس الكتاب

الصفحة 3051 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

3051 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ أَشْهَبَ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے کمزور، عورتوں اور بچوں میں (رات ہی کو) بھیج دیا تھا۔ ہم نے صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی اور جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں۔

اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا یا بعد میں وقوف کرنا حج کے ارکان میں شامل نہیں۔ اس کے بغیر بھی حج ہو سکتا ہے ورنہ رسول اللہﷺ عورتوں کو رات کے وقت منیٰ جانے کی اجازت نہ دیتے۔ لیکن یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ یہ رخصت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کا ذکر ہے حدیث میں ہو چکا ہے، لہٰذا اس حدیث میں مزدلفہ میں نماز فجر ادا کرنے کی عدم رکنیت کی دلیل پکڑنا درست نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے نماز میں قیام رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن ضعیف شخص جو اس کا متحمل نہیں وہ اس رکن سے مستثنیٰ ہے۔ اسی طرح مزدلفہ میں نماز فجر کی ادائیگی کا مسئلہ ہے۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت