فهرس الكتاب

الصفحة 4468 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: اس شخص کو صدقہ کرنے کا حکم جو خرید و فروخت کے وقت قصدًا قسم نہیں کھاتا(اتفاقًا قسم نکل جاتی ہے)

4468 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنْ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمْ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ

حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ میں غلے وغیرہ کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سمسار کہا کرتے تھے۔ لوگ بھی ہمیں اسی لفظ سے موسوم کرتے تھے حتی کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں (بازار میں) تشریف لائے اور ہمیں ایسے نام سے پکارا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بدرجہا بہتر تھا: آپ نے فرمایا: ''اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں بلاقصد قسمیں اور فضول باتیں واقع ہوتی رہتی ہیں، لہٰذا تم صدقہ کیا کرو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت