کتاب: مواقیت کا بیان
2928 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ''تم لوگوں کے اوپر اوپر سے (دور سے) سوار ہو کر طواف کر لو۔'' میں نے اس طرح طواف کیا تو رسول اللہﷺ اس وقت بیت اللہ کے قریب نماز پڑھا رہے تھے اور سورطہ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔
(۱) مریض سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے بشرطیکہ سواری کعبے کے تقدس کے خلاف نہ ہو اور نمازیوں اور طواف کرنے والوں کے لیے اذیت کا سبب نہ ہو۔ (۲) دوران نماز مجبوری کی بنا پر طواف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ طواف نمازیوں کے پیچھے رہ کر کیا جائے گا۔ (مزید تفصیل دیکھیے، حدیث نمبر: ۲۹۳۱)