فهرس الكتاب

الصفحة 3373 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3373 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جَثْمٍ فَقِيلَ لَهُ بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ قَالَ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ وَبَارَكَ لَكُمْ

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب نے بنو جشم کی اییک عورت سے شادی کی تو انہیں مبارک باد یوں دی گئی: ''تم محبت وپیار سے رہو اور تمہں بیٹے ملیں۔'' حضرت حسن نے فرمایا: اس کی بجائے اس طرح کہو جیسے رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے: ] بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمْ وَبَارَکَ لَکُم[ ''اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے لیے برکت فرمائے۔''

مبارک باد کا پہلا طریقہ جاہلیت کا رواج تھا' لہٰذا اسے بدلا گیا۔ ویسے بھی دعا میں اللہ تعالیٰ کا نام ضرور آنا چاہیے۔ مومن اور کافر میں امتیاز اللہ تعالیٰ کے نام سے ہی ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت