فهرس الكتاب

الصفحة 3428 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3428 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ هَلْ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا فَقُلْتُ لَهُ فَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے بیٹھے تو انہوں نے فرمایا: تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟ اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی' پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ سے اس کی بابت پوچھا تو آپ نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا کہ پھر وہ صحیح وقت پر طلاق دے۔ میں نے عرض کیا: کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ آپ نے فرمایا: اور کیا؟ اگر وہ صحیح وقت پر طلاق دینے سے عاجز رہا اور اس نے یہ نادانی کرلی (تو کیا تیرا خیال ہے وہ شمار نہ ہوگی) ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت