فهرس الكتاب

الصفحة 2486 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2486 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ وَلَا يَحِلُّ فِي إِبِلٍ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''گندم اور کھجور میں زکاۃ (عشر واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ وسق ہو جائیں۔ اور چاندی میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ اوقیے (دو سو درہم ہو جائیں۔ اور اونٹوں میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ پانچ ہو جائیں۔''

یعنی مذکورہ مقادیر یا ان سے زائد میں زکاۃ واجب ہوگی، ان سے کم میں نہیں۔ اس سے زیادہ صریح روایت کیا ہوگی؟ مگر احناف پھر بھی غلے اور کھجور کے قلیل وکثیر میں زکاۃ کے وجوب کے قائل ہیں۔ وہ اس حدیث کے معنی کرتے ہیں کہ حکومت نہیں لے گی۔ (یعنی قلیل میں البتہ مالک خود فقراء کو ادا کریں۔ مگر باقی دو، یعنی اونٹوں اور چاندی میں وہ اس مفہوم کے قائل نہیں، لہٰذا یہ مسلک درست نہیں۔ اور یوں زکاۃ کی ادائیگی کی دو شکلیں اختراع کرنا شریعت نہیں، بلکہ ایجاد بندہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت