فهرس الكتاب

الصفحة 729 من 5761

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

729 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْسَنَ هَذَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سامنے والی دیوار پر کھنکھار لگا دیکھا تو آپ غصے میں آگئے حتی کہ آپ کا چہرئہ انور سرخ ہوگیا۔ انصار کی ایک عورت اٹھی، اس نے کھنکھار کو کھرچا اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ کیا ہی خوب ہے!''

(۱) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے اسے صحیح اور بعض نے حسن قرار دیا ہے اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کیونکہ دیگر صحیح روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ دیگر روایات میں مذکور مضمون کی اس روایت سے تردید یا مخالفت بھی نہیں ہوتی، لہٰذا مذکورہ روایت قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألبانی: ۱۲۰/۷، حدیث: ۳۰۵۰، و سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: ۷۶۲) (۲) مسجد میں گند لگا ہو تو اسے کھرچ کر یا صاف کرکے خوشبو لگا دینا اچھا عمل ہے۔ خلوق ایک رنگ دار خوشبو ہے جسے عورتیں استعمال کرتی ہیں کیونکہ مرد کے لیے رنگ دار خوشبو کا استعمال منع ہے، البتہ مسجد کو یہ خوشبو لگانا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت