فهرس الكتاب

الصفحة 3608 من 5761

کتاب: گھوڑوں'گھڑ دوڑ پر انعام اور تیر اندازی سے متعلق احکام و مسائل

3608 أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي فَيَقُولُ يَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ فَقَالَ يَا خَالِدُ تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ وَارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَ بِهَا

حضرت خالد بن یزید جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرتے تو فرماتے: خالد! آؤ باہر جا کر تیراندازی کریں۔ ایک دن مجھے ذرا دیر ہوگئی تو فرمانے لگے: خالدآؤ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو رسول اللہﷺ نے فرمائی ہے۔ میں ان کے پاس پہنچا تو فرمانے لگے: رسول اللہﷺنے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین اشخاص کو جنت میں داخل فرمائے گا: ایک تو تیر بنانے والا' جو تیر بناتے وقت اچھی (جہاد یا ثواب کی) نیت رکھتا ہے۔ دوسرا تیر پھینکنے والا' اور تیسرا تیر پکڑانے والا۔ تیر اندازی (کی مشق) کیا کرو اور سواری (کی مشق) کیا کرو۔ اور میرے نزدیک تیراندازی گھوڑ سواری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ مستحب کھیل صرف تین ہیں: آدمی اپنے گھوڑے کو تربیت دے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرے یا اپنے تیر کمان سے تیر اندازی (کی مشق) کرے۔ جس آدمی نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے اہمیت نہ دیتے ہوئے چھوڑ دیا تو اس نے (اللہ تعالیٰ کی) نعمت کی ناشکری کی۔''

(۱) ''پسندیدہ ہے'' کیونکہ تیر چلانا نہ آنا آتا ہو تو گھوڑ سواری بے فائدہ ہے' جبکہ تیر اندازی اکیلی بھی مفید ہے۔ (۲) ''مستحب کھیل'' یعنی ان میں ثواب حاصل ہوتا ہے کیونکہ ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوتی ہے' جبکہ دوسرے کھیل صرف جسمانی تفریح کا فائدہ دیتے ہیں اور اس جسمانی تفریح کا کیا فائدہ جو کسی کام نہ آئے؟ اگر جسمانی تفریح اور ورزش جہاد وغیرہ میں مفید ہوں تو ثواب کا موجب ہیں۔ (۳) ''ناشکری کی'' البتہ اگر اپنی دیگر مصروفیات کی بنا پر چھوڑا تو کوئی حرج نہیں۔ (۴) محقق کتاب نے اس روایت کی سند کو حسن قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے خالد بن یزید کی جہالت کی بنا پر اس روایت کو ضعیف قراردیا ہے' تاہم ''تین کھیل مستحب ہیں'' والا حصہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے' (ذخیرۃ العقبیٰ' شرح سنن النسائی: ۳۰/۱۳ وضعیف سنن النسائی' رقم: ۳۵۸۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت