کتاب: گھوڑوں'گھڑ دوڑ پر انعام اور تیر اندازی سے متعلق احکام و مسائل
3607 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ
حضرت عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے' یعنی ثواب اور غنیمت۔''
گھوڑوں کا ذکر خصوصًا' اس لیے ہے کہ رسول اللہﷺ کے دومبارک میں گھوڑے جہاد کے لیے انتہائی مفید بھی تھے اور ناگزیر بھی اور اب بھی ان کی افادیت سے انکار نہیں۔ آپ کا مقصد مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ترغیب دلانا ہے۔ اب گھوڑوں کے علاوہ جدید جنگی اسلحہ اور ہتھیاروں کی تیاری وفراہمی ضروری ہے۔