1370 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ
حضرت ابوالجعد ضمری سے روایت ہے ……… انھیں شرف صحابیت حاصل تھا رضی اللہ عنہ ……… کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس آدمی نے سستی کرتے ہوئے اور معمولی سمجھتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر (نفاق کی) مہر لگا دیتا ہے۔''
(۱) ''مہر لگانا'' ایک محاورہ ہے جس سے مراد کسی چیز کو یقینی بنانا اور ناقابل تنسیخ کر دینا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلاعذر شرعی تین جمعے چھوڑنے والا شخص قطعًا منافق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ (الا یہ کہ توبہ کرلے۔) (۲) جمعہ ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اس قسم کی وعید ترک واجب ہی پر ہوتی ہے۔ (۳) واجب اعمال کی ادائیگی میں سستی بہت بڑا جرم ہے۔ ترک واجب پر دوام سے نیکی کی توفیق سلب ہو جاتی ہے، آدمی کے دل پر غفلت کے پردے چڑھ جاتے ہیں اور آدمی نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا۔ أعادنا اللہ منہ۔