فهرس الكتاب

الصفحة 4279 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

4279 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وعَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ» قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ» قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ، وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے معراض کے تیر کے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ''جسے تیر نوک کے بل لگا ہو، اسے کھا لے اور جسے عرض کے بل (یا کسی اور طرف سے) لگا ہو، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔'' میں نے آپ سے شکاری کتے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ''جب تو کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے تو اس کا شکار کھا لے۔'' میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دے؟ آپ نے فرمایا: ''خواہ وہ قتل کر دے۔ لیکن اگر وہ اس میں سے کھانے لگے تو پھر نہ کھا۔ اور اگر تو اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے جبکہ جانور ختم ہو چکا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا ہے نہ کہ دوسرے کتے پر۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت