4280 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَتَلَ، وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ»
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ''جب تو اپنا کتا چھوڑے اور اس پر بسم اللہ پڑھے، پھر وہ قتل بھی کر دے لیکن خود نہ کھائے تو وہ شکار تو کھا لے۔ اور اگر وہ کھانا شروع کر دے تو پھر نہ کھا کیونکہ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تیرے لیے۔''
''نہ کہ تیرے لیے'' مقصد یہ ہے کہ وہ کتا سدھایا ہوا نہیں، لہٰذا اس کا شکار جائز نہیں۔ حدیث کا اس قدر تکرار تمام تفصیلات بتانے کے لیے ہے، نیز یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ یہ حدیث غریب (ایک آدھ سند والی) نہیں۔