فهرس الكتاب

الصفحة 1897 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1897 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ صاف ستھرے اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے فوت شدگان کو بھی انھی میں کفن دیا کرو۔''

(۱) سفید کپڑے میں معمولی سا میل کچیل اور گندگی بھی ظاہر ہوتی ہے، لہٰذا اسے جلدی صاف کیا جاتا ہے اور وہ صاف ستھرا رہتا ہے، رنگ دار کپڑوں میں میل کچیل محسوس نہیں ہوتا، وہ دیر تک دھوئے نہیں جاتے، اس لیے بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ویسے بھی سفید کپڑے کی ایک شان ہوتی ہے۔ (۲) مجبوری نہ ہو تو کفن سفید ہی ہونا چاہیے۔ (۳) کفن پہنانا واجب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت