فهرس الكتاب

الصفحة 2375 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

2375 أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس نے بلاناغہ روزہ رکھا اس کا کوئی روزہ نہیں۔''

صیام داود علیہ السلام سے زائد روزے نہیں رکھنے چاہئیں کیونکہ یہ افضل ترین ہیں۔ اگر کوئی زائد رکھے گا تو بھی زائد ثواب حاصل نہ کر سکے گا۔ ایک آدھ ماہ میں ایسے ہو تو الگ بات ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے، مسلسل ایسا کرنا منع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت