فهرس الكتاب

الصفحة 2376 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

اس کے بارے میں وارد حدیث میں حضرت عطا ءکے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر

2376 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ عَنْ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: '۔جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، تو (ایسے سمجھو کہ) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا (وہ بے روزہ رہا) ۔''

''نہ اس نے روزہ رکھا۔'' یعنی اسے کسی روزے کا ثواب نہ ملا۔ معلوم ہوا عبادات میں غلو کرنا اور ہد سے تجاوز کرنا انھیں بے اجر بنا دیتا ہے۔'' ''نہ افطار کیا۔'' یعنی وہ افطار (روزہ نہ رکھنے) کے فوائد سے بھی محروم رہا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت