فهرس الكتاب

الصفحة 1333 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

1333 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ ابْنِ عَازِبٍ قَالَ رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَاءِ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں بغور دیکھا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف منہ پھیرنے کے درمیان (قبلہ رخ) بیٹھنا، تقریبًا برابر پایا۔

سلام پھیرنے کے بعد امام کو کچھ دیر قبلہ رخ بیٹھے رہنا چاہیے۔ اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، رکوع اور سجود دوسرے ارکان، مثلًا: قومہ، جلسہ وغیرہ کے برابر ہوتے تھے۔ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام کافی لمبا ہوتا تھا۔ اسی طرح رات کی نماز میں رکوع و سجود بھی طویل ہوتے تھے۔ ممکن ہے کبھی کبھار سب ارکان برابر بھی ہوتےہوں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آپ سب ارکان میں تناست رکھتے تھے۔ اگر قیام لمبا ہوتا تو باقی ارکان میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا تھا اور اگر اختصار ہوتا تو دیگر ارکان میں بھی اسی تناسب سے اختصار ہوتا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت