فهرس الكتاب

الصفحة 4431 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: اس کی اجازت کا بیان

4431 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، پھر آپ نے فرمایا: ''اب کھائو۔ سفر میں بھی ساتھ لے جائو اور ذخیرہ بھی کرو۔''

حدیث مبارکہ کے الفاظ سے ظاہرًا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کا حکم ہے، یعنی ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں: [کُلُوْا وَ تَزَوَّدُوْا وَ ادَّخِرُوْا] یعنی کھائو، زادِ راہ بنائو اور ذخیرہ کرو۔ یہ تینوں صیغے امر کے ہیں لیکن جب کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو تو پھر امر استحباب، رخصت اور جواز وغیرہ پر بھی دلالت کرتا ہے۔ اس جگہ امر استحباب اور رخصت کے معنی میں ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے رخصت ہی سمجھی ہے۔ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں: [اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِV نَہَانَا اَنْ نَاْکُلَہٗ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا اَنْ نَّاْکُلَہٗ وَ نَدَّخِرَہٗ] ''بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پھر آپ نے ہمیں اس کے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دے دی۔'' (دیکھئے حدیث: ۴۴۳۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت