1335 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّى انْحَرَفَ
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ (قبلے سے) موڑ لیا۔
(۱) قبلے سے رخ موڑنا شاید اس لیے ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو بھی نماز کے ختم ہونے کا علم ہو جائے۔ ویسے بھی امام کا مقتدیوں کی طرف بیٹھنا نماز کی حد تک تو مجبوری تھی، نماز کے بعد مناسب ہے کہ وہ لوگوں کی طرف منہ کرکے بیٹھے جیسے سردار لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس لیے امام کو اپنا رخ قبلے کی طرف سے بدل لینا چاہیے۔ پھر چاہے تو بالکل مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھے، خصوصًًا اگر کوئی خطاب کرنا ہو اور چاہے تو دائیں یا بائیں منہ کرکے بیٹھ جائے۔ دائیں کو ترجیح دینا مستحسن ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمومًا دائیں جانب کو ترجیح دیتے تھے۔ (۲) اس حدیث کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب آپ نماز پڑھ چکے تو اٹھ کر گھر چلے گئے مگر نماز کے بعد دیر تک ذکر اذکار آپ کا معمول تھا، خصوصًا صبح کی نماز کے بعد۔ احادیث میں اس کی فضیلت بھی وارد ہے۔ ہوسکتا ہے کوئی کام ہو، اس لیے فورًا چلے گئے لیکن یہ معنی مراد لینے بعید ہیں کیونکہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر مسجد خیف کی بات ہے جیسا کہ حدیث: ۸۵۹ میں گزر چکا ہے۔ اور مسند احمد کے الفاظ ہیں: [ثم انحرف جالسا] ''پھر آپ بیٹھے بیٹھے مڑے۔'' (مسند أحمد: ۴/۱۶۱) لہٰذا پہلی بات ہی زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ تاہم ضرورت کے پیش نظر امام فورًا اٹھ کر بھی جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔