فهرس الكتاب

الصفحة 5423 من 5761

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان

5423 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ جوکہ سجستان کےحاکم تھے نےبیان کیاکہ (میرے والد محرم) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نےمجھے لکھاکہ میں نے رسول اللہﷺکوفرمانےسنا:کوئی شخص ایک مقدمے میں دومختلف نہ کرے۔ اورکوئی شخص فریقین کےدرمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔'

ایک ہی مقدمےیاایک جیسے دومقدمات میں مختلف فیصلے کرنا قاضی کی ساکھ کوختم کردیتاہے نیز اس سے لوگوں میں جھگڑے اوراختلاف بڑھیں گے جب کہ فیصلہ توانھیں ختم کرنے کےلیے کیاجاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت