5097 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے جعلی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
1۔ 'لگانے والی' خواہ اجرت پرلگائے یا خوشی سے کیونکہ حرام کام میں تعاون بھی حرام ہے۔2۔ 'لعنت فرمائی' کسی کا نام لے کراس پر لعنت کرنا جائز نہیں مگر کسی وصف کا ذکر کرکے لعنت کی جاسکتی ہے، جیسے چور پر لعنت۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔