فهرس الكتاب

الصفحة 1924 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1924 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ مَا هَذَا قَالُوا أَمْرُ أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ

حضرت ابو معمر بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ پاس سے گزرا۔ لوگ اس کی وجہ سے کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ (تم کیوں کھڑے ہوئے؟) لوگں نے کہا: یہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی ہدایت ہے۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف ایک یہودی عورت کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے، اس کے بعد کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے علم و رؤیت کی بات کر رہے ہیں ورنہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی روایات صراحتًا آئی ہیں۔ قولی روایات اس کے علاوہ ہیں۔ جن میں ہر جنازے کا ذکر ہے۔ ان روایات کے مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اصول حدیث کی رو سے مرجوح ہے۔ عمل ان روایات ہی پر ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام واجب نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت