فهرس الكتاب

الصفحة 246 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

246 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَيَغْسِلُهُمَا ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ

حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برتن لایا جاتا، آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی بہاتے، پھر انھیں دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ اور رانوں پر جو کچھ ہوتا اسے دھوتے، پھر اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک کو خوب اچھی طرح صاف کرتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر باقی سارے جسم پر پانی بہاتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت