فهرس الكتاب

الصفحة 4579 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنا

4579 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ هَذَا لَا يَصْلُحُ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا ثُمَّ قَالَ لِي ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے ایک شریک نے چاندی کا سودا ادھار کر لیا، پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا۔ میں نے کہا: یہ تو درست نہیں۔ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سودا بازار میں کیا ہے اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم اس قسم کی بیع کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ''جو (خرید و فروخت) نقد ہو، اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو، وہ سود ہے۔'' پھر انھوں نے مجھے کہا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا تو انھوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت