فهرس الكتاب

الصفحة 4580 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب: چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنا

4580 أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَا كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ

حضرت ابو منہال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تجارت کیا کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ''اگر یہ تبادلہ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو پھر یہ جائز نہیں۔''

سونے چاندی کے تبادلے سے مراد سونا دے کر چاندی لینا اور چاندی دے کر سونا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دینار کے بدلے درہم لینا یا درہم کے بدلے دینار لینا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سونے چاندی کے باہمی تناسب میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بھاؤ بدلنے رہتے ہیں، اس لیے نقد تبادلہ تو جائز ہے مگر ادھار جائز نہیں کیونکہ ممکن ہے ادائیگی تک بھاؤ میں فرق پڑ جائے، پھر تنازع کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت