736 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع کی وجہ نجاست نہیں ورنہ بکریوں کے باڑے میں بھی منع ہونی چاہیے، حالانکہ اس میں نماز پڑھنے کی صراحتًا اجازت آئی ہے۔ فعلی روایت بھی گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: ۷۰۳) نہی کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اونٹ کو شیطان الدواب کہا گیا ہے، یعنی یہ بڑا شریر جانور ہے۔ طاقت ور اور ضدی ہے۔ نمازی کو ہر وقت دھڑکا لگا رہے گا کہ کہیں منہ میں نہ ڈال لے یا اوپر ہی نہ بیٹھ جائے یا ٹانگ نہ دے مارے تو اس کی توجہ نماز کی بجائے اونٹوں کی طرف لگی رہے گی۔ اس طرح خشوع و خضوع نہ رہے گا۔ اگر باڑہ اونٹوں سے خالی ہو تو کیا نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ ظاہر تو یہ ہے کہ پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ مذکورہ خطرہ نہیں رہا، مگر ممکن ہے کہ شیطان کی طرف نسبت کی بنا پر خالی باڑے میں شیطانی اثرات رہتے ہوں، اس لیے ظاہر الفاظ کے اعتبار سے اجتناب بہتر ہے۔