فهرس الكتاب

الصفحة 1117 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

1117 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوپہر کے وقت سخت گرمی میں نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کر لیا کرتے تھے۔

اگر الگ کپڑا مراد ہے جیسے آج کل مصلیٰ وغیرہ ہوتا ہے تو پھر ظاہر ہے کوئی اشکال و اعتراض نہیں۔ ان پر بلاشک و شبہ نماز پڑھی جا سکتی ہے، البتہ اگر پہنے ہوئے کپڑے مراد ہوں، مثلًا: آستینیں آگے بڑھا کر ان پر ہاتھ رکھ لیے جائیں اور پگڑی نیچے کرکے اس پر ماتھا رکھ لیا جائےتو ضرورت کے وقت یہ بھی جائز ہے، مثلًا: سخت گرمی یا سردی سے بچنا،البتہ مٹی سے چہرے اور ہتھیلیوں کو بچانے کے لیے ایسا کرنا ممنوع ہے کہ یہ تکلف ہے جبکہ سری گرمی سے بچنا انسان کی ضرورت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت