فهرس الكتاب

الصفحة 5525 من 5761

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

5525 أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ ابْنَ يَسَافٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَكْثَرُ مَا يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ

حضرت ہلال بن یساف سے منقول ہے کہ میں نےنبئ اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ ﷺ اپںی وفات سے قبل کون سی دعا زیادہ پڑھتے تھے ؟انھوں نے فرمایا:یہ دعا زیادہ پڑھتے تھے:''اے اللہ !میں ان گناہوں کےشرسے تیری پناہ میں آتا ہوں جومیں کرچکا ہوں اوران گناہوں کےشر سےبھی جوابھی نہیں کیے۔'

1۔ اس قسم کی دعائیں امت کی تعلیم کےلیےہیں یا اپنی عبودیت کے اظہارکےلیے ورنہ آپ سے گناہوں کاصدورممکن نہیں تھا۔ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالی انھیں گناہ سے بچا کر رکھتا ہے ۔

2۔ گناہوں کے شرسے مراد وہ سزا ہے جوگناہوں کےلیے مقرر کی گئی ہے یعنی میرے گناہ معاف فرما۔ آئندہ گناہوں کےشر سے مراد ان کا صدور بھی ہوسکتا ہے کہ مجھ سے وہ گناہ ہی صادر نہ ہوں کیونکہ تقدیر سے توکوئی واقف نہیں ۔ واللہ اعلم .

3۔گناہ خواہ وہ فعل ہویا ترک ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت