فهرس الكتاب

الصفحة 248 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

248 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر وضو فرماتے جس طرح نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے اور ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر وضو فرماتے جس طرح نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے اور ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔

(۱) دوسری صحیح روایات میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے پہلے وضو فرماتے، مگر پاؤں چھوڑ دیتے اور مکمل غسل کر لینے کے بعد، جس جگہ غسل کرتے، اس سے ہٹ کر پاؤں دھوتے تھے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الغسل، حدیث: ۲۵۷، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: ۳۱۷) (۲) غسل کرنے سے پہلے تین چلو ڈالنا اور سارے جسم پر کم از کم ایک مرتبہ پانی بہانا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت