فهرس الكتاب

الصفحة 415 من 5761

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

415 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ قَالَتْ فَصَلَّى الضُّحَى فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جب کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور اس (فاطمہ بنت رسول) نے ایک کپڑے سے آپ کے آگے پردہ کر رکھا تھا اور پانی والے پیالے (برتن) میں گندھے ہوئے آٹے کے نشان تھے، پھر جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے صلاۃ ضحیٰ (نمازِچاشت) پڑھی۔ میں نہیں جانتی کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھیں۔

مذکورہ روایت کے الفاظ: [فما ادری کم صلی] ''میں نہیں جانتی کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔'' شاذ ہیں، اگرچہ محقق کتاب نے ساری روایت ہی کو حسن قرار دیا ہے۔ تاہم درست اور صحیح بات یہ ہے کہ صحیحین کی روایت کے مطابق خود ام ہانی نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ آپ نے آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی تھی۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی الفاظ کو سنن نسائی میں شاذ قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث۲۲۶ اور اس فوائدومسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت