فهرس الكتاب

الصفحة 1270 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

1270 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فَدَعَا بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطُهَا عَلَيْهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اٹھاتے اور اس کے ساتھ دعا کرتے اور بائیں ہاتھ کو کھول کر گھٹنے پر رکھتے

بعض روایات میں ران پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے اور بعض میں گھٹنے پر۔ تطبیق یوں ممکن ہے کہ تہھیلی ران پر ہو اور انگلیاں گھٹنے پر۔ بعض روایات میں یہ طریقہ صراحتًا بھی منقول ہے۔ جیسا کہ حدیث: ۱۲۶۹ میں ہے۔ اگرچہ ران والی روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے بعض حضرات نے پورا ہاتھ ران پر رکھنا بھی جائز قرار دیا ہے مگر اولیٰ یہی ہے کہ سب روایات پر عمل کیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت