فهرس الكتاب

الصفحة 3511 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3511 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنْ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا' جس وقت لعان کی آیت اتری تھی: ''جو عورت کسی قوم میں ایسے بچے کو داخل کردے جو ان میں سے نہیں تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔ اور جو آدمی اپنے بچے کا (ضد سے یا شک وشبہ سے) انکار کردے جب کہ بچہ اسے (پیار سے) دیکھ رہا ہو' اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑلے گا۔ اور قیامت کے دن اسے اگلے پچھلے سب لوگوں کے سامنے ذلیل فرمائے گا۔''

(۱) ''جو ان میں سے نہیں'' یعنی وہ زنا کا نتیجہ ہے مگر منسوب خاوند کی طرف ہی کرے۔ (۲) ''اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں'' مبالغہ ہے۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ یا آئندہ آنے والا جملہ ''اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔'' اس کی تفسیر ہے۔ (۳) ''جب کہ وہ بچہ اسے دیکھ رہا ہو' یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے: ''جبکہ وہ آدمی بچے کو دیکھ رہا ہو کہ واقعتا میرا ہے۔'' واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت