فهرس الكتاب

الصفحة 822 من 5761

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل

باب: ستونوں کے درمیان صف بنانا

822 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنْ الْأُمَرَاءِ فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگوں نے ہمیں دھکیل دیا حتی کہ ہم کھڑے ہوئے اور دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ ستونوں والی صف سے پیچھے ہٹنے لگے اور فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس (ستونوں کے درمیان صف بنانے) سے بچا کرتے تھے۔

ستونوں والی صف کئی جگہ سے کٹ جائے گی اور صف توڑنا گناہ ہے لہٰذا ستونوں والی صف میں کھڑے ہونے کی بجائے اس سے اگلی یا پچھلی صف میں کھڑے ہونا چاہیے۔ صحیح حدیث میں صراحتًا ستونوں کے درمیان صف بنانے سے روکا گیا ہے۔ حضرت قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع کیا جاتا تھا اور اس سے سختی کے ساتھ روکا جاتا تھا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات حدیث: ۱۰۰۲) البتہ یہی نہی جماعت کی صورت میں ہے۔ اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھنا چاہے تو ستونوں کے درمیان کھڑا ہوسکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے اندر دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ دیکھیے: (صحیح البخاری الصلاۃ حدیث: ۴۶۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت