فهرس الكتاب

الصفحة 4666 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

4666 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ» ، وَبَاعَ قَيِّمُ الْوَهَطِ فَضْلَ مَاءِ الْوَهَطِ فَكَرِهَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو

حضرت ایاس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ (حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زمین) وہط کے ناظم نے وہط کا زائد پانی بیچا تو حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند فرمایا۔

مفت ملنے والے پانی مثلًا: بارش، چشمے اور نہر کا پانی اگر کسی زرعی زمین سے زائد ہوتو اس کو بیچنا منع ہے۔ ہاں، جو پانی خریدا گیا ہو، مثلًا: ٹیوب ویل کا پانی یا جانوروں پر لاد کر لایا گیا پانی، ایسے پانی کو اسی حساب سے بیچ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ اس پانی کی بیع نہیں ہوتی بلکہ یہ دراصل ٹیوب ویل یا جانوروں کے اخراجات ہوتے ہیں یا انسانی محنت کا معاوضہ ہوتا ہے مگر عرفًا اسے پانی کی قیمت کہہ دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک بستی یا ایک زمین کا نام ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمرو کو ورثتًا ملی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت