فهرس الكتاب

الصفحة 4667 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

زائد اور فالتو پانی بیچنا

4667 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ»

صحابی رسول حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں زائد پانی نہ بیچو کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فالتو پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے پانی مفت اور و افر مہیا فرمایا ہے، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی ضرورت سے زائد پانی لوگوں کو مفت لے جانے دیں، خصوصًا کسی پیاسے انسان یا حیوان کو کسی صورت بھی پانی استعمال کرنے سے روکنا جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت