فهرس الكتاب

الصفحة 161 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

161 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے حتی کہ پہلے اس پر تین دفعہ پانی ڈال کر ڈھولے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی۔ (رات بھر کہاں کہاں لگتا رہا ہے۔'')

(۱) معلوم ہوا کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تبھی تو جاگنے کے بعد پانی کے برتن کا ذکر ہے۔ (۲) نیند سے اس بنا پر وضو ٹوٹتا ہے کہ اس میں جسم سے ہوا خارج ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور سونے والے کو اس کا پتا نہیں چلتا، اسی طرح اگر اونگھ اس درجہ غالب ہو کہ شعور و ادراک ہی ختم ہو جائے تو یہ بھی نیند ہے اور مطلق نیند ناقض وضو ہے، خواہ جس حالت میں بھی آ جائے کیونکہ مطلق نیند آنے پر وضو کے ٹوٹنے کی احادیث موجود ہیں۔ لیکن اگر نیند میں حواس قائم ہوں، شعور زندہ ہو تو ہماری زبان میں اسے اونگھ کہتے ہیں، یہ کسی بھی حالت میں آ جائے، وضو نہیں ٹوٹتا۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت