فهرس الكتاب

الصفحة 684 من 5761

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل

684 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ حَتَّى قَطَعَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو شعاء سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب کہ ایک آدمی اذان کے بعد مسجد میں سے گزرا حتیٰ کہ مسجد سے باہر نکل گیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔

(۱) اذان کے بعد بلاوجہ مسجد سے جانا منع ہے۔ اگر کوئی مجبوری ہو، مثلًا، وضو کرنا ہو یا کسی اور جگہ جماعت کروانی ہو تو مسجد سے نکل سکتا ہے کیونکہ وہ نماز سے فرار نہیں ہو رہا۔ حدیث میں مذکور شخص کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ وہ بلاوجہ گیا ہے۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ دیکھیے۔ (۲) ابوالقاسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی۔ (۳) اس قسم کی روایت جو ظاہرًا آپ کا فرمان نہ ہو مگر صحابی نے وہ بات جزًا کہی ہو، حکمًا مرفوع روایت کے زمرے میں شامل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت