فهرس الكتاب

الصفحة 4361 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

4361 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم سات جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔ ہم (آپ کے ساتھ رہتے ہوئے) ٹڈیاں کھایا کرتے تھے۔

اس ٹڈی سے مراد وہ ٹڈی نہیں جو عام گھروں میں ہوتی ہے بلکہ اس سے مراد وہ ٹڈی ہے جسے مکڑی بھی کہا جاتا ہے، وہ جو فصلوں کو بھی چٹ کر جاتی ہے۔ یہ حلال جانور ہے۔ اس کو ذبح کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ وَدَمَانِ: اَلْجَرَادُ وَالْحِیتَانُ وَالْکَبِدُ وَالطِّحَالُ] ''ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ دو مردار (جنھیں ذبح نہ کیا گیا ہو) ٹڈی (مکڑی) اور مچھلی ہیں۔ اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔'' (مسند احمد: ۲/ ۹۷ وسنن الکبریٰ للبیہقی: ۱/ ۲۵۴) اس میں بھی مچھلی کی طرح دم مسفوح ہے (بہنے والا خون) نہیں ہوتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت