فهرس الكتاب

الصفحة 4360 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

4360 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ طَبِيبًا ذَكَرَ ضِفْدَعًا فِي دَوَاءٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهِ

حضرت عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی دوائی میں مینڈک ڈالنے کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے قتل سے منع فرما دیا۔

(۱) مینڈک کے متعلق حکم شریعت یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ بوقت ضرورت بھی رسول اللہ ﷺ نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ آپ کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ (۲) مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے لیکن یہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے بلکہ عرصہ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہٰذا اسے آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جاسکتا، یعنی اسے حلال نہیں کہا جائے گا۔ (۳) ''منع فرما دیا'' مقصد یہ ہے کہ مینڈک کو دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قتل کیے بغیر تو اسے دوا میں ڈالنے سے رہے۔ جب قتل حرام ہے تو اس کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے کیونکہ یہ پلید جانور ہے یا کم از کم قابل نفرت تو ضرور ہے۔ تبھی آپ نے اس کے قتل سے منع فرمایا۔ قتل سے نہی بھی حرمت کی علامت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت