فهرس الكتاب

الصفحة 333 من 5761

کتاب: پانی کی مختلف اقسام سے متعلق احکام و مسائل

333 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تحقیق ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی لے کر جاتے ہیں۔ اب اگر ہم اس سے وضو کریں تو ہم پیاسے رہیں گے۔ تو کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سمندر کا پانی پاک اور پاک کرنے والا ہوتا ہے اور اس کا مرنے والا جانور حلال ہوتا ہے۔''

دیکھیے، حدیث: ۵9 اور اس کے فوائد و مسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت