فهرس الكتاب

الصفحة 4273 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

4273 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ''جب تو اپنے (سدھائے ہوئے) کتے کو چھوڑے، پھر اس کے ساتھ اور کتے مل جائیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کتے نے قتل کیا ہے۔''

معلوم ہوا اگر ان کو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہو، خواہ کسی دوسرے نے پڑھی ہو تو شکار حلال ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت