فهرس الكتاب

الصفحة 715 من 5761

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

715 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَعَنْ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعۃ المبارک کے دن نماز جمعہ سے قبل حلقے بنانے اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(۱) نماز جمعہ سے قبل علمی حلقے قائم کرنا جمعہ کی اہمیت کو کم کرتا ہے، اس لیے جمعہ کے دن دینی تعلیمی اداروں میں چھٹی کی جاتی ہے۔ یا جمعۃ المبارک کے خطبے کے دوران میں حلقے بنانا منع ہے بلکہ سب لوگ ایک حلقے کی صورت میں امام کیطرف منہ کرکے بیٹھیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ خطبۂ جمعہ میں حلقے کی صورت میں نہ بیٹھیں بلکہ صفوں کی سیدھ میں بیٹھیں تاکہ بعد میں نماز کی ادائیگی میں وقت نہ ہو، البتہ صف کی سیدھ میں بیٹھ کر منہ امام کی طرف ہی کیا جائے۔ (۲) مسجد میں خرید و فروخت کا جمعہ سے تعلق نہیں بلکہ مسجد میں خرید و فروخت کرنا ہر وقت منع ہے کیونکہ اس میں شور و غل، جھگڑا اور تکرار ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں مسجد کے تقدس کے خلاف ہیں۔ مسجد تو عبادت، ذکر اور قراءت قرآن کے لیے بنائی جاتی ہے، نیز مسجد میں خرید و فروخت کی اجازت سے نماز وغیرہ میں رکاوٹ پڑے گی اور مسجد کو آنے والا خالص عبادت کے لیے نہیں بلکہ خرید و فروخت کی نیت سے بھی آئے گا، اس طرح وہ آنے کے ثواب سے محروم رہے گا۔ مسجد کی طرف نماز کی تیاری اور نیت کے ساتھ آنا بھی تو بڑے ثواب کا کام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت