فهرس الكتاب

الصفحة 611 من 5761

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

611 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوعمروشیبانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ہمیں اس گھر کے مالک نے بیان فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ''وقت پر نمازپڑھنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔''

باب کا مقصد یہ ہے کہ اصل یہی ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر پڑھی جائے، سوائے عرفات اور مزدلفہ کے کہ وہاں نمازیں جمع کرنا شرعی حکم ہے اور سفر میں بھی دو نمازوں کو جمع کرنا مشروع ہے۔ سفر میں بھی افضل ہر نماز کو وقت ہی پر پڑھنا ہے۔ سر میں جمع کرنا رخصت ہے، افضل نہیں۔ اسی طرح حضر میں کبھی کسی عذر کی بنا پر جمع کرلینا بھی رخصت ہے، بہرحال ہر نماز کو حسب امکان اپنےوقت ہی پر ادا کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت