2533 أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ
حضرت طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے لو گوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ آپ فرما رہے تھے: ''دینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا ہے اور سب سے پہلے تو اسے دے جس کا تو ذمے دار ہے۔ اپنی ماں کو دے، اپنے باپ کو دے، اپنی بہن کو دے، اپنے بھائی کو دے، پھر اپنے قریبی رشتے دار کو دے، پھر اپنے پڑوسی کو دے۔'' یہ حدیث مختصر ہے۔
عقلًا بھی یہی ترتیب ہے کیونکہ جس کا خرچہ ذمے ہو، اس کا تو حق ہے۔ دنیا میں بھی پرسش ہوگی اور آخرت میں بھی، پھر تعلق، رشتہ داری اور قرب کا لحاظ رکھا جائے گا۔