فهرس الكتاب
4991 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ كَانَ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ
حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس شخص میں یہ تین چیزیں پائی جائیں ،وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے: جو شخص کسی آدمی سے محبت کرتا ہے کسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ۔ جسے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسو ل ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوں ۔ جس شخص کو آگ میں کو د جانا کفر کی طرف لوٹ جانے سے زیادہ پسند ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کفر سے نکال لیا ہے ۔،،
''ایمان کی مٹھاس ،، مطلب یہ ہے کہ ایمان میٹھی چیز کی طرح لذیذ ہے ۔میٹھے میں لذت محسوس کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ اسی طرح جو شخص صحیح فطرت انسانی پر قائم ہو ، وہ ایمان میں لذت محسوس کرےگا۔ تفصیل بیان ہوچکی ہے ۔