فهرس الكتاب

الصفحة 2188 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

2188 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بَقِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ الصِّيَامِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ

حضرت جبیر بن نفیر سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہؓ سے (نفل) روزوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ شعبان (کے تقریبًا) سبھی روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ قصدًا رکھا کرتے تھے۔

ایک اور روایت میں سوموار اور جمعرات کے روزے کی وجہ نبیﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دو دنوں میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ دیکھئے (جامع الترمذی، الصوم، حدیث: ۷۴۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت