فهرس الكتاب

الصفحة 418 من 5761

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

418 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا قَالَتْ هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نماز والا وضو فرمایا مگر پاؤں نہ دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ اور لگ جانے والی آلودگی کو دھویا، پھر جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے پاؤں ایک طرف کرکے دھوئے۔ انھوں نے یہ فرمایا: یہ آپ کے غسل جنابت کا طریقہ ہے

اس روایت میں استنجا کرنے سے پہلے وضو کرنے کا بیان ہے۔ یہ بیان میں سہو ہے۔ اگلی روایت سے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ سب سے پہلے گندگی صاف کی جائے، یعنی استنجا کیا جائے، اس کے بعد نماز پڑھی جائے۔ صرف سر کا مسح نہیں ہوگا۔ اس کی بجائے تین چلو پانی سر میں ڈالا جائے گا اور پاؤں بھی غسل کرنے کے بعد آخر میں دھوئے جائیں گے، لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ شروع میں بھی دھوئے جاسکتے ہیں جبکہ بعد میں پاؤں کے آلودہ ہونے کا خدشہ نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے، حدیث ۲۵۴ اور اس کے فوائدومسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت