فهرس الكتاب

الصفحة 4089 من 5761

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان

4089 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ''جو اپنے مال کو (ڈاکوؤں وغیرہ سے) بچانے کے لیے لڑائی کرے او مارا جائے تو وہ شہید ہے۔''

''شہید ہے'' یعنی شہید کی طرح اس کی بھی مغفرت ہو جائے گی۔ اسے اجر عظیم حاصل ہو گا کیونکہ وہ مظلوم مارا گیا۔ شید بھی مظلوم مارا جاتا ہے۔ البتہ اس پر شہید فی سبیل اللہ والے احکام لاگو نہ ہوں گے، مثلًا: اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ میدان جنگ کے علاوہ جن کو شہید کہا گیا ہے، ان کا حکم بھی یہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مظلوم شہید ہوئے تھے مگر انہیں غسل دیا گیا تھا اور ان کا جنازہ بھی پڑھا گیا تھا۔ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی یہی ہوا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت