فهرس الكتاب

الصفحة 4695 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

4695 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''صاحب استطاعت شخص کا ادائیگی سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب کسی (قرض خواہ) کو کسی مالدار شخص کے سپرد کیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ ادائیگی کے لیے اس سے رجوع کرے۔''

حوالہ کی تفصیل حدیث نمبر ۴۶۹۲ میں بیان ہو چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرض ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جمہور اہل علم محدثین کرام وفقہائے عظام اصل مقروض کو حوالہ کے بعد بری الذمہ سمجھتے ہیں، خواہ دوسرا شخص بھی ادائیگی نہ کر سکے کیونکہ قرض دوسرے کی طرف منتقل ہوگیا، دلائل کے اعتبار سے یہی بات راجح ہے۔فائدہ: حوالہ کی تفصیل حدیث نمبر ۴۶۹۲ میں بیان ہو چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرض ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جمہور اہل علم محدثین کرام وفقہائے عظام اصل مقروض کو حوالہ کے بعد بری الذمہ سمجھتے ہیں، خواہ دوسرا شخص بھی ادائیگی نہ کر سکے کیونکہ قرض دوسرے کی طرف منتقل ہوگیا، دلائل کے اعتبار سے یہی بات راجح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت