4574 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر۔ کسی ایک کو دوسرے سے زیادہ نہ کرو۔ اور چاندی چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر برابر اور ان میں سے کسی غائب کا نقد سے سودا نہ کرو۔''
''سودا نہ کرو'' یعنی ادھار سودا جائز نہیں کیونکہ سونے چاندی کا بھاؤ اور باہمی تناسب بدلتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں جھگڑے کا امکان ہے۔ شریعت تنازع کو پسند نہیں کرتی۔