فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

75 أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح و أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اعمال کا اعتبار نیت سے ہے۔ ہر آدمی کو اس کی نیت کے طمابق اجر ملے گا، چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہے تو اس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف سمجھی جائے گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت اس چیز کی طرف سمجھی جائے گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔''

(۱) یہ حدیث دین اسلام کی چند اساسی احادیث میں سے ہے جن پر دین کی بنیاد ہے۔ اعمال سے نیک اعمال ہی مراد ہیں، یعنی ان کی صحت و اعتبار کے لیے نیت کا خالص ہونا شرط ہے، بخلاف برے اعمال کے کہ وہ اچھی نیت سے اچھے نہیں بن سکتے جبکہ نیک اعمال خراب نیت سے برے بن سکتے ہیں۔ (۲) اس حدیث کی رو سے نیت کے بغیر کوئی عمل معتبر نہیں جن میں وضو بھی داخل ہے اور یہی جمہور اہل علم و فقہاء اور محدثین کا مسلک ہے مگر احناف کے نزدیک وضونیت کے بغیر بھی معتبر ہے کیونکہ یہ اصل عبادت نہیں، بلکہ اصل عبادت (نماز وغیرہ) کے لیے وسیلہ ہے، حالانکہ صحیح احادیث کی رو سے ضو گناہوں کی معافی اور درجات کے حصول کا بھی سبب ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: ۸۳۲) اور یہ بغیر نیت کے ممکن نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت